شرمندگی

  • پہلی شرمندگی

     

     

  • عبرت ہے عقل والوں کے لیے

۱۱۱ -  یوسف

 

 

  •  

 

 

  • احساس شرمندگی

اس طرع کے انجام سے میں حیران تھا
اپنی اس ناکامی پر پریشان تھا
کیوں  اور کیسے کا سوال دماغ میں گھومتا
اکثر خلا میں خالی دماغ سے میں گھورتا
جذبوں اور تجربوں سے سیکھا تھا کچھ اور
کبھی بھی نہ سنا تھا ناکامیوں کا شور
شرافت کا لبادہ بھی ہوا تار تار
ہر طرف کھل گئے ذلت کے بازار
لوگوں میں تھی میری خاص پرسنالٹی
کہتے تھے یہ ہے اچھی کوالٹی
نہ جانتے تھے میری  برائیوں  کو اکثر
سلام کرنےآتے تھے کئی سرکاری افسر
قطرہ قطرہ جو بوئی برائی
دینے لگی ہر چیزاس بات کی گواہی

 بیوی کے اعتماد کو زبردست توڑا

ہونے لگا شرمندگی کا احساس تھوڑاتھوڑا
دوست احباب رشتہ دار اور بہن بھائی
ہر طرف ہونے لگی میری ہی رسوائی
گھر اور باہر سے آتی یہ صدائیں
بیوی کے ہوتے غیر کیوں سمائیں
بیوی میں موجود ہیں جب وہ ہی اوزار
کس لیے کیا میں نے اجنبی سے پیار
احساس شرمندگی نے مجھے آگھیرا
ذلت ورسوائی سے چھایا یوں اندھیرا
شرمندگی سےنکلتی دل سے آئیں
دینے لگا پھر میں خدا کو صدائیں

 

  •  

    دوسری شرمندگی

    وَیَنھٰی عَنِ الفَحشَآءِوَالمُنکَرِ وَالبَغیِ

     

اور منع کرتا ہے بےحیائی سے برائی سے اور زیادتی سے

النحل - 90

 سوچوں کی تبدیلی نے کیا یوں حیران
لگنے لگی دنیا مجھے بےآب و ویران
محبت تھی میری نظر میں چند لمحوں کا کھیل
آنکھ کی برائی سے پائی محبت کی جیل
بےحیائی برائی اور ذیادتی کی بستی
اجنبی عورت نے ہلا دی میرے دل کی ہستی
اس عورت کے حصول کے لیے جو بھی کی تدبیریں
میرے گرد بڑھتی گئی مصیبتوں کی زنجیریں
دل میرے میں بس گئی ویرانی ہی ویرانی
اک اک لمحہ کی یاد آتی یاروں مجھے کہانی
گھریلوں حالات سے نہ رہی دلچسپی
یاروں میں پیتا رہا اجنبی عورت کی وہسکی

  شرمندگی اور ذلت سے ہوامیں برباد
دل میں بسنے لگی اللہ کی یاد
شرمندگی کے احساس کا در ہوا وا
اللہ کی رحمت سے ہونےلگا آگاہ

  • قَلبِھِ مَرَضُ

  • دل اس کے بیماری ہے

 

تیسری شرمندگی

خدا سے مانگنے لگا تھوڑی تھوڑی پناہ
لگتا تھا کر بیٹھا ہوں خدا کو خفا
سوچوں کی تبدیلی سے تھا میں پریشان
محبت نے بنا دیا مریض اس جہان
 دائمی غم لگاتار فکر اور وسواس
دل کہتا آجائے محبوبہ میرے پاس
بےخوابی اور کم کھانے کا ملنے لگا انعام

  ذیادہ جاگنے سے چھوٹنے لگا مجھ سے میرا کام
اعضاء میں رہنے لگا لرزا طاری
زبان میں آنے لگی لکنت ساری
جسمانی لاغری بھی ہو گئی جسم میں پیدا
عشق نے پکڑادیا بیماریوں کا قائدہ
رائے کے معاملے میں ہو گیا بےکار
آنسو رہنے لگے جاری لگاتار
یہ بیماریاں ہو گئی اعصاب پر مسلط
آنکھوں کے آگے رہتی محبوبہ ہی معلق
اعصابی بیماریوں نے دکھایا اپنا رنگ
ڈاکٹر نکالنے لگے جیب کی کسر
دل سے تدبیر مصلحت ہو گئی غائب
لوگوں کے لیے بن گیا میں نمونہ عجائب
حسرتوں کو بھی پھلنے کا مل گیا موقع
چیخ و پکار سے دیتا خود کو دھوکا
دل میرے پہ چھا گئی کامل غشی
انہی اسباب سے سوچتا کرلوں خودکشی
محبت تھی میری نظر میں اک فضول ہستی
اس عورت نے ہلا دی دل کی بستی
کاش کہ سوچ لیتا میں اس ساعت
کہ عشق سے ختم ہوتی ہے انسانی وجاہت
اس عورت کے حصول کے لیے جو بھی کی تدبیریں
میرے گرد بڑھتی گئی مصیبتوں کی زنجیریں

شرمندگی سے میں نے سر دیا جھکا
جلنے لگا دل میں خدا کی یاد کا دیا

 

  • ھَل یُجزَونَ اِلَّامَاکَانُوایَعمَلُونَ

  • کیا لوگ اسکے سوا جزا پاسکتے ہیں جیسا کریں ویسا بھریں؛


الاعراف - 147

 

چوتھی شرمندگی

سردیوں کی دھوپ کا میں لے رہا تھا مزا
مترنم قہقہوں سے گونجی یکدم فضا
تجسس سے ادھراْدھر نظروں کو پھیرا
بیٹی کو دیکھکر چھایا اندھیرا
میری بیٹی اورہمسائیوں کا لڑکا ؛
دل میں بدنامی کا فورًا خوف دھڑکا
آنکھ سے غائب ہوئی محبوبہ کی شکل
بیٹی کے انداز نے فورًا دی عقل
گھر کا ماحول ہے بچوں کی درسگاہ
ہائے اللہ ڈھونڈوں میں کدھر کو پناہ
شرمندگی کا دل میں پہلا دیا جلا
مکافات عمل اور اتنا جلد صلہ
پچھتاوے اور شرمندگی سے جھکا میرا سر
کہ بہترین پناہ گاہ ہے صرف خدا کا گھر
جیسا کرو گے ویسا بھرو گے آئی یہاں سوچ
میرے دل پہ فورًا لگی بڑی گہری چوٹ
 

  • فَاَصبَحَ مِنَ النّٰدِمِینَ

  • پس ہوگیا پشیمانوں میں سے

المآہدۃ - 31


پانچویں شرمندگی

عشق کے چکر میں ہوا تھا حیا رخصت
بیٹی کے انداز سے آئی دل میں خفت
گھر کے ماحول کو دیکھنے لگا غور سے
ذلت ورسوائی تھی گانوں کے شور سے
خود جو ہوا میں موسیقی کا شیدائی
موسیقی کی لوازمات پہ رقم تھی لگائی
اپنی خود غرضی سے دل ہوا اندھا
فلموں کا کھول دیا گھر میں دھندھا
کیبل بوجہ فحاشی گھر یں ہوئی داخل
گھر سے نکلے فورًا نماز اور نوافل
شیطانی ہر سہولت گھر میں کی عام
اولاد کو ملنے لگا فحاشی کا جام
صبح کی تلاوت کا نہ ہوتا آغاز
گھر میرے بجتا صبح سویرے ساز
احساس شرمندگی ہوئی دل میں داخل
احساس گناہ سے دل تھاغافل
اپنے ہی ہاتھوں تباہ کیا گھر
ندامت کے احساس سے جھکایا سر
پشیمان ہونے کو رہ گیا تھا کیا ؛
ہر چیز بننے لگی برائی کی گواہ


 

1 comment: